آج سے پانچ ارب برس بعد جب سورج اپنا ایندھن ختم کرنے سے قبل پھیلے گا تو

آج سے پانچ ارب برس بعد جب سورج اپنا ایندھن ختم کرنے سے قبل پھیلے گا تو زمین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا ، زمین اپنے تمام ریکارڈ سمیت ختم ہو جاے گی اور یہاں انسان ، انسانی تہذیب اور زندگی کا کوئی ثبوت باقی نہیں رہے گا ،

لیکن ہم بیرونی خلا میں پہلے ہی ثبوت بھیج چکے ہیں ، ١٩٧٧ میں امریکی خلائی ادارے ناسا نے وؤیجر ون اور ٹو کے نام سے دو ایسے سیٹلائٹس بھیجے جن کا مقصد کسی ممکنہ زہین خلائی مخلوق کیلیے انسانوں کی جانب سے پیغامات ہیں ، یہ پیغامات اس طرح تیار کیے گیے ہیں تا کہ کروڑوں برس تک خراب نہ ہوں،

voygar
Voyager

چونکہ کائنات میں ہائیڈروجن سب سے زیادہ پایا جانے والا عنصر ہے اسلیے ان میں ہائیڈروجن کے ایٹم کا عکس ہے . اسکی ایکٹرومیگنیٹک شعاعوں کی طول موج (ویولینگتھ) کے ریفرنس سے انسان کی پیمائش کا عکس ہے .

اس میں نظام شمسی ، ڈی این اے ، خلیوں ، انسانی بدن اور زمین پر دوسری زندگی کے عکس ہیں ،

اس میں زمین کا پتا ہے، چونکہ زمین اور سورج کو ہماری کہکشاں میں کوئی خاص مقام حاصل نہیں اسلیے اس کو گردوپیش میں موجود چودہ کوازرز (شدید توانائی خارج کرتے کائناتی اجسام ) کے ریفرنس سے دکھایا گیا ہے ،

اس میں دنیا کی پچپن زبانوں میں پیغامات ہیں جن میں اردو میں یہ پیغام بھی شامل ہے ”اسلام و عليکم ـ ہم زمين کے رہنے والوں کى طرف سے آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں ”.

اس میں پچیس سے زیادہ زبانوں میں موسیقی کی ریکارڈنگ ہے ،

اور اس میں کارل ساگان کی منتخب کردہ ١١٦ تصویریں ہیں جو زمین پر مختلف کلچرز ، رہن سہن اور فطری مناظر دکھاتی ہیں ، ان میں سے ایک تصویر پاکستان سے بھی ہے .

وؤیجر ون سترہ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے پر کائنات اتنی بڑی ہے کہ اس کو پہلے ستارے (گلیز ٤٤٥) کے قریب پہنچنے میں بھی چالیس ہزار سال لگیں گے ، یہ اب نظام شمسی سے باہر نکل چکا ہے اور اب تک زمین کو سگنل بھیجتا ہے ،
اسی نے ١٩٩٠ میں زمین کی طرف آخری مرتبہ رخ کر کے ایک تصویر لی تھی جس کو کارل ساگان کا ”مدھم نیلا نقطہ ” کہتے ہیں اور جو میرے نزدیک سائنس ، شاعری اور رومانیت کا بہترین امتزاج ہے ،

اس لنک پر آپ کو وؤیجر پر موجود تمام پیغامات کی تفصیل ملے گی ،
http://voyager.jpl.nasa.gov/spacecraft/goldenrec.html

اس لنک پر آپ لمحہ با لمحہ وؤیجر کا زمین سے فاصلہ دیکھ سکتے ہیں ، یہ اس وقت زمین سے ساڑھے بیس ارب کلومیٹر (١٩ نوری گھنٹے ) دور جا چکا ہے .
http://voyager.jpl.nasa.gov/where/

——
اگر آپ وؤیجر کے ساتھ کوئی پیغام بھیج سکتے تو کیا بھیجتے ؟